ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو:مساج پارلرس اور گیم سنٹروں میں میئر کا چھاپہ، دولڑکیوں کو بچالیا گیا

منگلورو:مساج پارلرس اور گیم سنٹروں میں میئر کا چھاپہ، دولڑکیوں کو بچالیا گیا

Wed, 12 Jul 2017 14:45:29    S.O. News Service

منگلورو،12؍جولائی (ایس او نیوز) منگلورو میں اسکلskill گیمس کی شکل میں جوے بازی اور مساج سنٹروں کی آڑ میں غیر قانونی جنسی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں جس کے پیش نظر منگلوروسٹی کارپوریشن کی میئر کویتا سانیل نے اپنی ٹیم کے ساتھ ایسے کئی ٹھکانوں پر چھاپے مارے ۔ اس موقع پر قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے علاوہ مساج سنٹروں میں جنسی سرگرمیوں میں ملوث دو لڑکیوں کو وہاں سے رہائی دلانے کا کا م بھی کیا گیا۔میڈیا کے ذریعے لی گئی تصاویر سے صاف لگتا ہے کہ وہاں جنسی سرگرمیاں جاری تھیں، جس کی وجہ سے چھاپے کے وقت کچھ مرد نیم برہنہ حالتوں میں پائے گئے تھے۔

سب سے پہلا چھاپہ بیجائی میں واقع" آلیو لیف"نامی یوگا اور آیورویدا مساج سنٹر پر ماراگیا اور وہاں پر چل رہی غیر قانونی حرکتوں کو دیکھنے کے بعد وہاں سے دونوجوان لڑکیوں کو رہا کروایا گیا۔پھر میئرنے جیوتی سرکل کے پاس واقع پراڈائزیونی سیکس بیوٹی اسپاکا رخ کیا۔ لیکن اس وقت تک چھاپہ ماری کی اطلاع شاید انہیں مل گئی تھی۔ اس لئے اس سنٹر کا شٹر بند ہوچکا تھا۔

جب چھاپہ مار ٹیم کلکٹر گیٹ کے قریب بالمٹا میں واقع گرین ویالی یونی سیکس سیلون او ر جیوتی سرکل کے قریب رایل اسپااور ایروما اسپا پہنچی تو وہاں بھی شٹرز ڈاؤن کیے جاچکے تھے۔اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے میئرکویتا سانیل نے بتایا کہ انہوں نے غیر قانونی اسکل گیم سنٹرز اور مساج پارلرز کی جنسی سرگرمیوں پر روک لگانے کے مسئلے کو بڑی سنجیدگی سے لیا ہے۔ میئر بننے سے پہلے جب وہ ہیلتھ کمیٹی میں تھیں تب بھی اس سلسلے میں بہت ہی سرگرم تھیں۔

میئر کویتا نے بتایا کہ سابق پولیس کمشنر چندراشیکھر کے دور میں ایسے غیر قانونی مراکز اور ان کی سرگرمیوں پر کافی قابو پالیا گیا تھا۔ اب نئے پولیس کمشنر کے دور میں پھر سے یہ مراکز اپنا سراٹھانے لگے ہیں۔ عوام کی طرف سے مسلسل ایسے سنٹروں کے خلاف شکایتیں مل رہی ہیں جو ٹریڈ لائسنس کے بغیر غیر قانونی طور پر چلائے جارہے ہیں۔آیور وید مساج کے نام پر بغیر لائسنس کے مراکز چلائے جارہے ہیں۔ مرد کو مرد اور خاتون کو خاتون ہی کے ذریعے مساج کیا جانا چاہیے۔ جبکہ ان سنٹروں میں اس پر عمل نہیں ہوتا ہے۔

کویتا سانیل نے پولیس پر بھی تنقید کی اور کہاکہ ٹریفک کے معمولی قانون توڑنے والوں کو پکڑنے میں تو پولیس دلچسپی رکھتی ہے ، مگر غیر قانونی کاروبار چلانے پر چھاپے مارنے اور ان کے خلاف اقدام کرنے میں پولیس کوئی دلچسپی نہیں لیتی ہے۔

اس مہم کے دوران ایک دلچسپ موڑ اس وقت آگیا جب جیوتی سرکل پر واقع ایک اسکل گیم سنٹر پر چھاپہ ماراگیا۔ اس سنٹر کی مالک ایک خاتون تھی جس نے میئر کے کسی بھی حکم کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سٹی کارپوریشن کے لائسنس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں ہائی کورٹ کے حکم اور قانون کے مطابق اپنا کاروبار چلارہی ہوں۔ اس لیے آپ لوگوں کو میرے مرکز پر چھاپہ مارنے کا کوئی حق نہیں ہے۔اس کا کہنا تھا کہ جب پولیس نے ہی مجھے یہ سنٹر چلانے کی اجازت دے رکھی ہے توپھر ایم سی سی کے افسران اسے بند نہیں کرواسکتے۔

جب وہ خاتون کسی بھی طرح بات ماننے کو تیار نہیں ہوئی تو میئر نے پولیس افسران کو طلب کیا۔ڈی سی پی شانتا راجو اور اے سی پی اودئے نائک موقع پر پہنچے۔ انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ پولیس کی طرف سے کسی قسم کی اجازت متعلقہ سنٹر کو دی گئی ہے۔ پھر انہوں نے اس خاتون کو ایم سی سی لائسنس ملنے تک گیم سنٹر بند کرنے کو کہا تب بھی اس نے بات نہیں مانی۔ بالآخر خاتون پولیس افیسر اے سی پی شروتھی کو موقع پر بلایا گیا اور زبردستی سنٹر کی مالکہ کو باہر نکالتے ہوئے گیم سنٹر پرتالا لگادیا گیا۔


Share: